نئی دہلی،12؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی فساد کے 15 دن بعد پہلی بار مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں اپوزیشن کے الزامات،فساد کے دوران پولیس کی سستی اور انتظامیہ کی نااہلی پر جواب دیتے ہوئے کچھ اس طرح کی بات کی کہ دہلی فساد بہت بڑا معاملہ نہیں ہے اور دہلی پولیس نے محض 36 گھنٹے میں فساد پر قابو پالیا تھا-
امیت شاہ کے اس بیان سے جہاں ایک طرف اپوزیشن نے لوک سبھا سے واک آؤٹ کیا وہیں فساد میں مارے گئے لوگوں کے اہل خانہ کو بھی کافی تکلیف پہنچی- موجودہ سیاسی حالات کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے کاروبار میں اپنی دکانوں کو چلانے کے لئے گاہکوں کو لبھاتے ہیں ویسے سیاست دان اپنی سیاست کو چمکانے اور اقتدارپر براجمان ہونے کیلئے انسانی لاشوں کو اپنی منزل کی سیڑھی بناتے ہیں -
دہلی فساد میں 50 سے زائد افراد کی ہلاکت اور متعدد افراد کی گم شدگی کی رپورٹ نے ہندوستان سمیت پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا لیکن شاید اقتدارپر قابض حکمرانوں پر اس کا کوئی اثرنہیں ہوا- یہی وجہ ہے کہ جب مرکزی وزیر داخلہ پارلیمان میں دہلی فساد پر اپنی بات رکھنے کے لئے اٹھے تو انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کی ناکامی کا اعتراف کئے بغیر صرف اپنی کامیابی کی داستان سنا ڈالی-
حالانکہ اپوزیشن کانگریس کے رکن پارلیمان ادھیر رنجن چودھری نے جن باتوں کی طرف پارلیمان میں اشارہ کیا ہے وہ قابل توجہ ہیں - انہوں نے کہاکہ مرکزی وزیر داخلہ کی حیثیت سے امیت شاہ 50 سے زائد افراد کے قتل کے ذمہ دار ہیں - کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر اورپرویش ورما کے بار بار اشتعال انگیز بیانات نے فضا کو مکدر کردیا تھا جس کی وجہ سے ایک طبقے نے دوسرے طبقے پر حملہ کردیا- لیکن بی جے پی نے اپنے مذکورہ لیڈروں کے خلاف نہ صرف یہ کہ کارروائی نہیں کی بلکہ ہر موقع پر حوصلہ افزائی کی-
رنجن چودھری نے کہاکہ دہلی تشدد پر قابو پایا جاسکتاتھا لیکن ایسا کیوں نہیں ہوا- بڑی تعداد میں فورس کی تعیناتی کیوں نہیں ہوئی اور قومی حفاظتی مشیر اجیت ڈوبھال کے سڑک پر اترنے کے 36 گھنٹے بعد حالات کیسے پرامن ہوگئے-
یہ سوال مرکزی وزیر داخلہ سے پوچھا جانا چاہئے کہ وہ 36 گھنٹے سے پہلے کیا کررہے تھے- اگر فساد زدہ علاقوں کی سڑکوں پر قومی سلامتی مشیرکے اترنے سے حالات بہترہوسکتے ہیں تو پھر فساد برپا ہونے کے چند گھنٹوں کے دوران ہی امیت شاہ کے سڑکوں پر اترنے سے یا بڑی تعداد میں فورس کی تعیناتی سے کیا حالات پرامن نہیں ہوسکتے تھے- یہ سوالات ہیں جن پر غورکرنا ضروری ہے -امیت شاہ نے یہ کہتے ہوئے دہلی پولیس کے جوانوں کی پیٹھ تھپتھپائی کہ محض 36 گھنٹوں کے اندر فساد پر قابو پالیا گیا تھا لیکن یہ سوال مرکزی وزیر داخلہ سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ 50سے زائد افراد کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟
امیت شاہ نے پارلیمان میں کہا کہ فیس آئیڈنٹی فکیشن سافٹ ویر کے ذریعہ گیارہ سو لوگوں کی شناخت ہوئی ہے - تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ 300 فسادی یوپی سے آئے تھے اورانہوں نے ہی فساد بھڑکایا تھاتوپھر اترپردیش سے آنے والے فسادی کون تھے؟ وہاں بھی تو بی جے پی کی حکومت ہے کیا وہاں کی حکومت نے فسادیوں کو تیار کیا تھا؟ تاکہ مرکزی حکومت کے سی اے اے کے خلاف آواز بند کرنے والوں کو ختم کردیا جائے اور پرامن مظاہرے کرنے والوں کے حوصلے پست کردئے جائیں؟ قتل عام اور ہزاروں افراد کے بے گھرہونے کے بعد بھی مودی حکومت کا یہ کہنا کہ سی اے اے کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا جارہا ہے کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہوسکتا کیونکہ احتجاجات میں جو لوگ شریک ہیں وہ انتہائی سمجھدار اور پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ آئین کی حفاظت سے ہی ملک کی حفاظت ممکن ہے- کیا ایک جمہوری ملک میں حکومت کی پالیسی کے خلاف آواز بلند کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے-
مرکزی وزیر داخلہ اگر تسلیم کرتے ہیں کہ ہاں ہے تو پھر احتجاجیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے والوں پر مودی حکومت کارروائی کیوں نہیں کرتی؟ کیوں نہیں احتجاجیوں سے ملاقات کرکے سی اے اے کے تعلق سے ان کے شکوک وشبہات کو دورکرنے کی کوشش کی جاتی؟